بھوپال :27/ جنوری (ایس اونیوز /آئی این ایس انڈیا)کانگریس کے جنرل سکریٹری کے طور پر پرینکا گاندھی واڈرا کی تقرری کے بعد اپوزیشن پارٹیوں کے رہنماؤں کے مختلف بیانات آ رہے ہیں۔مدھیہ پردیش بی جے پی ایم ایل اے رامیشور شرما نے گاندھی خاندان کو نشانہ بنایا ہے۔انہوں نے کہا ہے کہ گاندھی خاندان مسلسل جیوتی رادتیہ کو نظر انداز کر رہا ہے۔پرینکا گاندھی کو کانگریس جنرل سکریٹری بناکر مشرقی اتر پردیش کی کمان سونپی گئی ہے جبکہ پارٹی کا سیکرٹری جنرل بنا کر جیوتی رادتیہ سندھیا کو مغربی یوپی کی ذمہ داری دی گئی ہے۔بات کرتے ہوئے بھوپال کی ہضور اسمبلی سیٹ سے ممبر اسمبلی رامیشور شرما نے کہاکہ مسلسل کام کرنے والے کارکن کو جب نظرانداز کیاجاتا ہے تو اس پر غور کرنا پڑتا ہے۔مادھوراؤ سندھیا کی موت کے بعد جیوتی سندھیا مسلسل جدوجہد کررہے ہیں،سب سے پہلے انہوں نے محسوس کیا کہ والد کی موت کے بعد وہ مناسب مقام حاصل کریں گے، لیکن ایسا نہیں ہوا،جب جیوتی رادتیہ کو کابینہ میں لایاگیا تو وزیر مملکت کادرجہ ملاتھا۔رامیشور شرما نے مزید کہا کہ کانگریس کے بہت سے قانون ساز بھی یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ سندھیا ریاستی صدربنیں لیکن پھر بھی انہیں ریاستی صدر نہیں بنایاگیا،اب جب پرینکا گاندھی کوجنرل سیکریٹری بنایاگیا تو وہ مبارک باد کے پوسٹروں سے سندھیاکا نام غائب ہو گیاہے،رامیشور شرما نے کہا کہ اس سے واضح ہے کہ جیوتی رادتیہ سندھیاکی قربانی دی گئی ہے۔اس کے بعد رامیشور شرما نے بڑا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ جیوتی رادتیہ سندھیا کو نہ پبلسٹی ملی اور نہ عہدے کا وقار،پہلے بھائی کے غلام تھے اور اب وہ بھائی اور بہن کے غلام ہیں۔ایم ایل اے شرما نے پوچھا کہ مدھیہ پردیش کے لیڈر اور خاندانی لیڈر کے ساتھ یہ انصافی کیوں ہے،اسے سمجھنا چاہیے۔